Showing posts with label اردو. Show all posts
Showing posts with label اردو. Show all posts

Saturday, 21 July 2018

گاۓ کے نام پر الور میں ایک اور مسلمان کا قتل، دوسرا پہلو خان

موقعہ واردات 


کل رات گاۓ کے نام پر ایک اور مسلمان کو قتل کر دیا گیا- واقعہ اسی الور کا ہے جہاں پچھلے سال پہلو خان کو ہلاک کر دیا گیا تھا- مرنے والے کا نام اکبر خان ہے جسکی عمر اٹھائیس سال بتائی جا رہی ہے- اس معاملے میں پولیس ابھی تک دو 
لوگوں کو حراست میں لیا ہے اور صوبہ کی وزیر اعلی وسندھرا راجے نے قتل کی مذمت کی ہے-

پہلو خان


اس طرح کے واقعات اس انداز میں ہو رہے ہیں جیسے انکے پیچھے کوئی ذہن کام کر رہا ہے- کچھ مثالوں سے سمجھتے ہیں – جس دن سپریم کورٹ بھیڑ کے ذریعہ ہو رہے اموات پر نکتہ چینی کرتا ہے اسی کے کل ہو کر سوامی اگنویش کو ایک ہندو مجمع کے ذریعہ بری طرح پیٹ دیا جاتا ہے- کل ہی وزیراعظم مودی نے پارلیامنٹ میں اپنی ذمّہ داری صوبائی حکومتوں کو سونپتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں اس کو روکیں اور کل ہی ایک ہندو مجمع نے اکبر خان کو ہلاک کر دیا- ایسا لگتا ہے جیسے ایک خاص قسم کے مجمع کو یہ پہلے سے ہی که دیا گیا ہو کہ اعلی عہدوں پر بیٹھا جب مذمت کرے تو اسکا الٹا مطلب سمجھا جاۓ- نتیجہ کی فکر نہ کی جائے کیونکہ وہاں پھول مالا لے کر خیر مقدم کرنے کے لئے لوگوں کو پہلے سے ہی رکھ دیا گیا ہے-



مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ گاۓ سے خود کو دور رکھیں چاہے وہ انکی تجارت کرتے ہوں یا انہیں پالتے ہوں- اگر میں شریعت میں دخل دے سکتا تو گاۓ کو خنزیر کی طرح حرام قرار دے دیتا- حالات کو دیکھتے ہوئے گاۓ سے دوری بنانا ہی فائدہ مند ہوگا-
____________________________________________

یہ بھی پڑھیں:




Thursday, 28 June 2018

صدر جمہوریہ اور انکی اہلیہ کے ساتھ مندر کے خادمین کی بدسلوکی



یہ واقعہ مارچ کا ہے مگر عوام میں یہ خبر ابھی آئی ہے- ١٨ مارچ کو صدر جمہوریہ رامناتھ کووند اپنی اہلیہ سویتا کووند کے ساتھ اڑیسہ کے پوری میں مشہور مندر جگن ناتھ مندر کی زیارت کو گئے تھے- یہ الزام ہے کہ مندر کے خادمین نے انکو گربھ گرہ میں جانے سے روکا اور انکی اہلیہ کے ساتھ زیادتی کی-



 اس بات کا ذکر ٢٠ مارچ کی میٹنگ کی رجسٹر میں بھی موجود ہے- مندروں اور مزاروں کے گربھ میں ایسا کیا ہوتا ہے پتا نہیں کہ برہمن اور مجاور عام لوگوں کو وہاں نہیں جانے دیتے- ایسا ممکن ہے کہ اس خاص جگہ پر صرف برہمن ہی جا سکتے ہوں جسکی وجہ سے انہیں وہاں جانے سے روکا گیا ہو- واضح ہو کہ صدر جمہوریہ کو بھاجپا نے ڈنکے کی چوٹ پر دلت ثابت کیا ہے-



مقامی انتظامیہ نے اس معاملے میں تفتیش کا بھروسہ دلایا ہے- معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب صدر جمہوریہ کے دفتر سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خط ارسال کیا گیا اور انکی اہلیہ کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کا ذکر کیا گیا- مندر انتظامیہ نے بھی بدسلوکی کو قبول کر لیا ہے مگر اسکی تفصیل دینے سے انکار کر دیا ہے-
__________________________________________

Wednesday, 27 June 2018

سنبت پاترا بچہ ہے، ہمارا مقابلہ اسکے باپ سے ہے: اویسی



آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد سے رکن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے پرسوں مہاراشٹر میں ایک بیان دیا تھا جس کی گونج کل دن بھر ہندوستانی ٹی وی چینلوں پر سنائی دیتی رہی اور اس پر بحث کا دور چلتا رہا- اسی بیان کے جواب میں بھاجپا کے ملکی سطح کے نمائندے سنبت پاترا نے اویسی کو نیو جناح قرار دے دیا جس کے جواب میں اویسی نے سنبت پاترا کو بچہ کہ دیا-



دراصل ایک مجمع کو خطاب کرتے ہوئے ایسی نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ مسلمان ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے مسلم نمائندے کو ووٹ کریں اور اپنی سیاسی موجودگی درج کریں. اس بیان نے ہندوستان کی سیاست میں ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے- سنبت پاترا نے اسی بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہ سکتا ہوں کہ اویسی نیو جناح ہیں اور ان کا یہ بیان قابل مذمت ہے، مسلمانوں کو ملک کی دھارا سے بہکانا تشویشناک ہے- اویسی ہمیشہ ایسا کرتے رہے ہیں.



پاترا نے شاید اویسی کو کانگریس کا لیڈر سمجھ لیا جسے وہ ٹی وی پر اپنی بکواسوں سے بولنے نہیں دیتا- اسے شاید نہیں معلوم تھا کہ اویسی ایک حاضر جواب اور تعلیم یافتہ لیڈر ہیں. فورا ہی اویسی نے پاترا کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاترا ابھی بچہ ہے اور ہمارا مقابلہ اسکے باپ سے ہے- اویسی کا مسلمانوں سے اپیل صحیح معنوں میں وقت کی ایک اہم ضرورت ہے- مودی نے کچھ بھی نہیں کیا پھر بھی ہر ہندو آر ایس ایس کا غلام بن گیا ہے ایسے میں اگر ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو مسلمانوں کو بکاؤ مولاناؤں سے دور رہنا ہوگا اور اپنی ایک شناخت بنانی ہوگی-
_______________________________________

اپنا رد عمل ضرور دیں.

میڈیا سائٹس سے کیوں ہٹا دی جاتی ہیں امت شاہ سے جڑی خبریں؟


ہندوستان کی سیاست میں امت شاہ ایک ایسا نام بنتا جا رہا ہے جسکے راستے میں جو بھی آتا ہے مٹا دیا جاتا ہے. حالیہ معاملہ 
نوٹ بندی سے جڑا ہوا ہے جس میں امت شاہ کا نام آیا ہے مگر ملک کی کچھ نامی میڈیا ہاؤس نے اس خبر کو شائع کرنے کے بعد بنا کسی وضاحت کے اپنی سائٹ سے ہٹا دیا. گزشتہ دنوں ہندوستان کے ایک نامور جج 'لویا' کی موت ہو گئی تھی- جنکی موت کو زبردستی قدرتی موت قرار دے دیا گیا تھا جبکہ حالات و کوائف اسکے خلاف تھے- واضح رہے کہ جج لویا امت شاہ سے جڑی ایک معاملے کی سماعت کر رہے تھے، معاملہ تھا سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر جو فرضی ثابت ہو چکا ہے اور امت شاہ اس میں ملزم ہیں. سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر معاملے میں اب تک درجنوں پولیس افسر اور ججوں کے تبادلے ہو چکے ہیں—
ہندوستان کے ہندو نوجوانوں کی ذہنیت اتنی گندی ہو چکی ہے کہ انہیں اب فرضی خبروں میں ملک کا مستقبل نظر آنے لگا ہے – یا تو یہ نوجوان بیوقوف ہیں یا انکی ذہنوں کو مسموم کر دیا گیا ہے- چونکہ انہیں جھوٹی خبریں پسند آنے لگی ہیں اسلئے ہندوستانی میڈیا نے بھی جھوٹی خبریں پروسنی شروع کر دی ہیں. جیسے فحاشی نوجوانوں کو لبھانے لگی تو فلم والوں نے فحاشی کا بازار شروع کر دیا ویسے ہی اب میڈیا نے فرضی خبروں کا بازار شروع کر دیا ہے- میں سوشل سائٹ کی بات نہیں کر رہا میں مستند میڈیا کی بات کر رہا ہوں- حد تو تب ہو گئی جب ہندوستان کی حکومت نے اپنی سائٹ پر فرضی اور غلط مواد ڈالنی شروع کر دی-


آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال نریندر مودی نے اچانک پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ بند کر دیئے تھے اور پورے ملک کو قطار میں لا کھڑا کیا تھا- اس وقت گجرات کی ایک سہکاری بینک جو امت شاہ کی نگرانی میں کام کرتا ہے اس میں سات سو چھیالیس کروڑ کے وہ نوٹ جمع ہوئے جو بند ہو چکے تھے – جس تاریخ کو یہ رقم جمع کی گئی اسی دن یہ سرکاری اعلان ہوا کہ اب کوئی سہکاری بینک میں پیسہ جمع نہیں کریگا کیونکہ اس سے خرد برد ہونے کا ڈر ہے- یہ جانکاری تب ملی جب ایک آرٹی آئی ورکر نے اس کے متعلق سرکار سے جانکاری طلب کی- اس خبر کو نیوز ایجنسی آئی اے این ایس نے شائع کیا-


نیوز ایجنسی آئی اے این ایس کی اس خبر کو تمام میڈیا والوں نے اپنے سائٹ پر شائع کیا مگر کچھ ہی گھنٹوں کے بعد یہ خبر ان سائٹس سے ہٹا لی گئیں – جن میڈیا کمپنیوں نے خبریں غائب کر دیں ان میں نیوز١٨، فرسٹ پوسٹ اور نیو انڈین ایکسپریس شامل ہیں- اس دھوکے بازی کو مشہور نیوز پورٹل د وائر نے اجاگر کیا ہے- د وائر نے ان میڈیا والوں کو میل بھی کیا ہے کہ اسکی وضاحت کریں مگر اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے-


د وائر نے لکھا ہے کہ ایسا پہلے بھی کئی بار ہوا ہے جب میڈیا نے پہلے خبریں شائع کی ہیں اور انہیں غائب کر دیا ہے- جولائی ٢٠١٧ میں ایک خبر آئی تھی کہ امت شاہ کی دولت میں ٣٠٠ فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے- اس خبر کو ٹائمز اف انڈیا نے شائع کیا اور کچھ ہی گھنٹوں کے بعد اسے ہٹا دیا گیا- اسی طرح جب اسمرتی ایرانی نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ میں نے بی کام پاس نہیں کیا ہے تو اس خبر کو میڈیا نے پہلے شائع کیا اور پھر ہٹا لیا-
ملک میں ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جس میں میڈیا پر لگام لگانے کی کچھ تعزیرات مقرر ہوں تاکہ کوئی میڈیا کسی خبر کو شائع کرنے کے بعد ہٹا نہ سکے-
_________________________________________________

اردو کا فروغ ہماری ذمہداری ہے اسلئے اہم خبروں کے لئے اردو سائٹس کو بک مارک کریں- ہر خبر پر آپ کی رہنمائی چاہئے-


Monday, 7 May 2018

ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی خطرے میں

ہریانہ کا وزیراعلی کھتر

ویسے تو ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے مگر صرف کاغذوں میں جمہوریت قید ہے- ٢٠١٤ کے بعد ہندوستان کے جن ریاستوں میں ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کی حکومت بنی ہے وہاں مسلمانوں کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جیسی اسلام کے ابتدائی دنوں میں مکہ میں تھی- گاۓ کے نام پر سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا- جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں جبرا انہیں ہندو بنا دیا گیا- داڑھی رکھے بزرگ لوگوں کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں اور اب حکومت کا فرمان ہے کہ مسلمان جمعہ کی نماز کھلے میں نہ ادا کریں



یہ فرعونی فرمان ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے جاری کئے ہیں- صوبہ ہریانہ میں ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کی حکومت ہے جہاں آئے دن مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں- پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پچھلے جمعہ کو ایک میدان میں کچھ مسلمان نماز ادا کرنے جمع ہے- اسی بیچ کچھ ہندو دہشت گرد جے شری رام کے نعرے لگاتے ہویے آ گئے اور لوگوں کو نماز ادا نہیں کرنے دیا- پولیس میں اس واقعہ کی شکایت کی گئی تو پولیس ان دہشت گردوں کو گرفتار کیا مگر کچھ ہی گھنٹوں میں انہیں چھوڑ دیا گیا

نمازیوں کو بھگاتے ہندو دہشت گرد


پولیس کی گرفت سے آزاد ہوتے ہی انہوں نے یہ اعلان کرنا شروع کر دیا گیا کہ ہم مسلمانوں کو کھلے میں نماز نہیں ادا کرنے دینگے- میڈیا کے ذریعہ اسکی وجہ پوچھے جانے پر انکا کہنا تھا کہ یہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں- دار اصل یہ بالکل ویسا ہی سوچتے ہیں جو انکے مذہب میں آزادی ہے کہ جہاں چاہو زمین قبضہ کر کے مندر بنا ڈالو- انکو شاید یہ نہیں پتا کہ مسجد کسی قبضے والی جگہ پر نہیں بنائی جا سکتی

پچھلے ہفتے ہی ان ہندو دہشت گردوں نے دہلی کے صفدرجنگ علاقے میں واقع ایک مقبرے کو قبضہ کر کے اسے مندر میں تبدیل کر دیا جبکہ اس مقبرہ کے پاس محکمہ آثار قدیمہ کا بورڈ بھی لگا تھا کہ یہ مقبرہ مغل بادشاہوں کا ہے- اس معاملے میں ریاستی اور مرکزی حکومتیں دونوں خاموش ہیں

وہ مقبرہ جسے ہندوؤں نے مندر بنا دیا


دوسری اقلیتیں


مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقلیتیں بھی ان ہندو دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں- ابھی کل ہی دہلی کے مشہور کالج سینٹ اسٹیفن میں موجود گرجا گھر پر ان دہشت گردوں نے لکھ دیا کہ یہاں مندر بنےگا- کالج انتظامیہ نے پولیس میں اسکی شکایت کی ہے مگر کچھ نہیں ہوگا

مسلمانوں کی اس حالت کا ذمہ دار کون؟


جب مسلمان صرف جمعہ کی نماز تک محدود ہو جاینگے تو الله ایسے حالت پیدا کر دینگے کہ یہ جمعہ بھی ادا نہیں کر سکتے- جب جب مسلمانوں نے الله کی نافرمانی کی ہے تب تب الله نے ان پر ظالم حکمران مسلط کیا ہے- یہ الله کا ایک اشارہ ہے کہ اب بھی راستے پر آ جاؤ
_____________________________________________________

مختلف جگہوں سے مسلمانوں کے حالت پر اپنا تبصرہ اور تحریر ہمیں بھیجیں، ایک دوسرے کے حالت سے آگاہی ضروری ہے- قوم کو رہ راست پر لانے والے مضامین بھی بھیجیں

Thursday, 19 April 2018

برطانیہ میں مودی کے خلاف پوسٹر لگے


کل ہندوستان کی پوری میڈیا مودی کے قصیدے پڑھنے میں لگی رہی مگر کسی کو وہ بینر اور پوسٹر نہیں دکھے جو مودی کی برطانیہ سفر کے خلاف لگائے گئے تھے- مودی کی باتیں پورے ہندوستان کو دکھائی گیئں جو پوری کی پوری جھوٹ پر مبنی تھیں. مودی دراصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ ان چار سالوں میں ملک بس چاند پر جاتے جاتے رہ گیا مطلب ایک بار اور انہیں حکومت چاہئے تاکہ ملک کو چاند تک لے جایا جا سکے

برطانیہ میں لگے پوسٹروں پر 'مودی ناٹ ویلکم' لکھے تھے اور اسکے وجوہات بھی لکھے تھے- ملک میں اقلیتوں پر ہو رہے مظالم، دلتوں پر ہو رہے رہے ظلم، ملک میں بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور مودی کا ہٹلر کا حمایتی ہونا اس احتجاج کے وجوہات بتائے گئے تھے. دراصل پچھلے کچھ دنوں میں ہندوستان میں دلتوں پر مظالم بڑھے ہیں اور ساتھ ساتھ اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو گائے کے نام پر قتل کیا گیا ہے اور سرکار نے انکے اوپر کوئی کاروائی نہیں کی ہے

پچھلے ہفتے جموں و کشمیر میں ایک آٹھ سال کی معصوم بچی کی ایک مندر میں عصمت دری کی گئی اور جب پولیس کاروائی کرنے پہنچی تو ہندو لوگوں نے جانچ میں مزاحمت پیدا کی گئی. معاملہ جب میڈیا میں آیا تو پوری دنیا کانپ گئی مگر مودی کی سیاسی پارٹی اب بھی مجرموں کو بچانے میں لگی ہے. سرکار کے طرف سے کاروائی کی بات تو ہو رہی ہے مگر انکو سزا مل پائیگی یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ مودی کی پارٹی کے جو صدر ہیں ان پر کی قتل کے مقدمے ہیں اور ان مقدموں کی شنوائی کر رہے ججوں کا ہی قتل ہو چکا ہے. مکہ مسجد بم دھماکہ، ممبئی دھماکہ، اجمیر دھماکہ میں ملوث ہندو دہشت گرد ملزمین کو سرکار پہلے ہی رہا کر چکی ہے
________________________________________________________

Wednesday, 18 April 2018

لڑکی کے ماں باپ کے ذریعہ عصمت دری کے مجرمین سے پیسے لیکر معاملہ رفع دفع کرنے کا الزام


آج پورے ملک میں جہاں ایک طرف عصمت دری کے مجرم کو سخت سے سخت سزا دینے کے قانون پر بات چل رہی ہے وہیں دوسری طرف دہلی سے ایک ایسی خبر آئی ہے کہ جسکو سن کر ہر ماں باپ کا سر شرم سے جھک جائیگا- دنیا کا ہر ماں باپ اپنی آخری سانس تک مجرم کو سزا دلانے کے لئے اپنی ہر کوشش کرتا ہے-

پچھلے سال اگست میں دہلی سے ایک لڑکی اچانک غائب ہو گئی تھی- سات دن کے بعد جب لڑکی واپس آئی تھی تو بتایا تھا کہ اسکو اغوا کر لیا گیا تھا اور اس دوران  اسکے ساتھ عصمت دری بھی کی گئی- لڑکی کے بیان کے مطابق دہلی پولیس نے دو لوگوں کو گرفتار کیا تھا- آج وہ لڑکی ایک بار پھر اسی پولیس کے سامنے کھڑی ہے- اس بار اسکا الزام ہے کہ اسکے ماں باپ مجرمین سے پانچ لاکھ روپیہ لے کر معاملہ رفع دفع کرنے پر مجبور کر رہے ہیں- لڑکی کی شکایت پر پولیس نے اسکی ماں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ باپ فرار ہے- لڑکی کی ہمت کو سلام-
(دکن کرونکل سے لیا گیا)
___________________________________________________________


Tuesday, 17 April 2018

ہندو دہشت گرد سوامی اسیمانند بری، این آئی اے پر اٹھے سوال


حیدرآباد کے مکہ مسجد میں ہوئے دھماکے کا ماسٹر مائنڈ آر ایس ایس کا ہندو دہشت گرد سوامی اسیمانند کو آج این آئی اے کورٹ نے بری کر دیا ہے- 2007 میں ہوئے اس دھماکے میں 9 بے قصوروں کی جان گئی تھی- اس نامی دہشت گرد کا تعلق ہندوستان کی سب سے بدنام تنظم آر ایس ایس سے ہے- مکہ مسجد بم دھماکہ 2007 میں ہوا تھا مگر سی بی آئی نے اس دہشت گرد کو 2010 میں گرفتار کیا تھا- اسکے ساتھ 9 اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جنکا تعلق بھی آر ایس ایس کی ذیلی تنظم ابھینو بھارت سے تھا- سی بی آئی نے اس کیس میں 68 لوگوں کو گواہ بنایا تھا مگر آخری وقت میں ان میں سے 54 گواہ مکر گئے- اس کیس میں سوامی کو اس وقت ضمانت مل گئی تھی جب 2014 میں ملک کے اندر آر ایس ایس کی حکومت بنی تھی-

اس معاملے میں حذب اختلاف یعنی کانگریس پارٹی کی نیت بھی صاف نہیں تھی- اگر نیت صاف ہوتی تو کانگریس کی سرکار میں ہی اس کیس کو سی بی آئی سے چھین کر این آئی اے کو کیوں سونپ دیا گیا تھا یہ بہت بڑا سوال ہے- مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے اس معاملے میں این آئی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے- انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے میں انصاف نہیں ہوا ہے- این آئی اے نے جان بوجھ کر اس کیس کو کمزور کیا ہے اور دہشت گردوں کی مدد کیا ہے- 
__________________________________

Wednesday, 28 March 2018

ظاھر ہوا ایک نیا بھگوان، بھگوان شمبھولال ریگر


آپکو شاید یاد ہو آج سے چند پہلے راجستھان کے راجسمند میں ایک بنگالی مزدور افرازول کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا- معاملہ بنایا گیا تھا لو جہاد کا- بعد میں پولیس نے اس بات کا خلاصہ کر دیا تھا کہ اصل میں خود کو اس لڑکی کا بھائی بتانے والے ہندوتو کے نئے بھگوان شمبھو لال لا اس لڑکی سے ناجائز تعلقات تھے- قتل کے الزام میں وہ بھگوان آج بھی جیل کی سلاخوں میں بند ہے جہاں اسے بھگوان ماں کر پولیس جیل سے باہر گھومنے پھرنے دیتی ہے – اسکا خلاصہ تب ہوا تھا جب جیل سے اسکا ایک ویڈیو جیل سے اپلوڈ کیا گیا تھا-



آج سے دو دن پہلے ہندوؤں کا تہوار رام نومی منایا گیا- اس تہوار میں جلوس نکالنے کا رواج ہے جس میں بھگوان کی مورتی کو نمائش کرتے ہے لے جاتے ہیں اور ندی میں ڈال آتے ہیں- اسی تہوار کے موقعہ پر بھگوان کی مورتی کے ساتھ شمبھولال کی بھی جھانکی تھی- اسے ایک ہندوتو کے ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا- پورے راستے اسکی جھانکی کو لوگ ہاتھ جوڑتے رہے جیسے بھگوان کے سامنے جوڑتے ہیں.

Source: India Today



ہندوستان کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے- شمبھولال تو پھر بھی آدمی ہے یہاں تو جانوروں تک کو پوجا جاتا ہے- بہت سے ایسے مندر ہیں جہاں جانوروں کی پوجا ہوتی ہے – یہ بیماری صرف ہندوؤں میں نہیں ہے، ہندوستان میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں مسلم بھی جانوروں کے آگے سجدہ کرتے ہیں- شمبھولال بھی تو ایک جانور ہی ہے-

Sunday, 18 February 2018

طلاق بدعت پر پرسنل لا بورڈ کی نئی پینترے بازی، حق کو تسلیم کرنے سے گریز کیوں؟

Scroll
آج مسلم پرسنل لا بورڈ کا نیا فرمان جاری ہوا- اب ایک ماڈل نکاح نامہ جاری ہوگا جسمیں ایک اضافی کالم شامل کیا جائیگا جس میں نکاح سے قبل دولہے سے یہ تحریری ضمانت لی جائیگی کہ وہ ایک بار میں تین طلاق نہیں دیگا- اگر دستخط کرنے کے باوجود بھی دولہا ایسا کرتا ہے تو اسکے ذریعہ لیا گیا تین طلاق کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا- ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ اتنے بڑے فرمان کو صرف ایک جملے میں کہدینے میں کیا قباحت ہے کہ "تین طلاق اسلام میں جائز نہیں" اور یہ طلاق بدعت ہے
جتنا یہ مسئلہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی ناک کا ہے اتنا ہی اسلام کی عظمت اور اسکے احکام کے بنی نوع انسانی کے حق میں آسان، قابل قبول اور انصاف پر مبنی ہونے کی ثبوت فراہم کرنے کا بھی ہے- یہ علماء جہاں دنیا کی نظر میں اسلام کو "عورت مخالف" ہونے کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں وہیں مسلم نوجوانوں کو بھی گمراہی کے راستے پر لے جا رہے ہیں- انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جس طرح ایک غیر مسلم اپنے مذہبی معاملات میں بنا برہمن اور پنڈت کے کچھ بھی نہیں کر سکتا اسی طرح ایک مسلمان بھی علماء کی رہنمائی کا محتاج ہے جبکہ قرآن کو اتنا آسان بنایا گیا ہے کہ ہر مسلمان آسانی سے سمجھ سکے خاص کر اس زمانے میں جب کہ اسکا ترجمہ اور تفسیر دنیا کے ہر زبان میں موجود ہے-
"تین طلاق اسلام میں جائز نہیں" صرف اتنی سی بات نہ کہنے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ آج کم سے کم ہندوستانی میڈیا کے حوالے سے اسی کروڑ لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ اسلام میں ایک قابل لعنت رواج ہے جسکا نام تین طلاق ہے- اسکے بعد اس مذہب میں عورتوں کا حلالہ بھی کیا جاتا ہے- آج دنیا کی انگشت نمائی کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نکاح نامہ میں ایک کالم کا اضافہ کیا جاۓ، کاش! قرآن کو فرقوں کی جنگ سے الگ رکھ کر پڑھے ہوتے اس انگشت نمائی سے بھی بچ جاتے اور شاید انگنت عورتیں حلالہ سے بھی بچ گئی ہوتیں- افسوس کہ یہ علماء آج بھی واضح الفاظ میں نہیں که پا رہے ہیں کہ "تین طلاق اسلام میں جائز نہیں" بلکہ دولہے کو کالم بنا کر تلقین کر رہے ہیں- جس چیز کو براہ راست دین کا حصّہ بنا دیا جاتا ہے اس پر عمل کروانا آسان ہوتا ہے مگر آج بھی اتنی ذلّت کے بعد اسمیں فرار کی راہ تلاش کر رہے ہیں-
جتنی اس بات میں صداقت ہے کہ مودی سرکار مسلمانوں کے ذاتی معاملات میں دخل دے رہی ہے اتنی ہی یہ بات بھی سچ ہے کہ علماء نے قرآن کا ایک واضح حکم ہونے کے باوجود قوم کو ایک حرام کام کرنے دیا اور لاکھوں عورتوں کی زندگیاں برباد ہونے دیں- قصوروار وہ مسلمان بھی ہیں جو اپنے حقوق اسلام کی روشنی میں خود نہیں حاصل کر سکتے بلکہ ان علماء کی رہنمائی کے محتاج بنے رہتے ہیں جو فرقوں کے جال میں اسلام کو الجھاۓ رکھتے ہیں- جو بنیادی اسلام ہے کم سے کم اسکی جانکاری تو ہر مسلمان پر فرض ہے ہی جیسے نماز، روزہ، زکات، نکاح، طلاق وغیرہ-
اسلام میں موجود مختلف فرقوں میں اختلافات ہیں مگر جو احکام ڈائریکٹ قرآن میں وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں اسمیں کیسا اختلاف؟ یہ بات آج مسلم نوجوانوں کو سمجھنی ہوگی اور قوم کو اس دور میں بحث و مباحثے سے بچانا ہوگا ورنہ قوم انہیں خرافات میں  الجھ کر  اصلی مقصد اور تعلیمی میدان میں کہیں پیچھے چھوٹ جائیگی – مسلم پرسنل لا کے لئے بہتر ہے کہ ایک قانون بن جانے دے بھلے ہی اسمیں جو سزا کے تجاویز ہیں انکی مخالفت کریں کیونکہ اسلام کا کام جب ایک مسلمان نہیں کر پاتا تو الله اپنا کام غیروں سے بھی کروا لیتا ہے – اسنے موسیٰ کو فرعون کے گھر میں پال کر دکھایا ہے آج قرآن کے ایک حکم کو مودی کے ہاتھ سے عمل میں لانے جا رہا ہے-





Friday, 16 February 2018

پانچ دن میں بے نقاب ہو گئے رام بھکت مولانا ندوی - پانچ سو کروڑ میں بکے تھے

google 

اگر آپ نے 'داستان ایمان فروشوں کی' نہیں پڑھا ہے تو آج ہی پڑھیں اور اسمیں ایک نیا نام بھی جوڑ لیں- مولانا سلمان ندوی. آج سے پانچ دن پہلے جناب اچانک رونما ہوئے اور لوگوں سے اپیل کی کہ مسلمان بابری مسجد سے دست بردار ہو جایئں اور بدلے میں ایودھیا سے باہر کہیں زمین لے لیں اور شاندار مسجد بنائیں یہی راستہ ہے اختلاف سے بچنے کا- مذکورہ بیان کے پاداش میں مسلم پرسنل لا بورڈ نے مولانا کو باہر کا راستہ دکھا دیا - الله جسکو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے دنیا میں ذلیل کر دیتا ہے- ابھی پانچ ہی دن ہی ہوئے ہیں کہ یہ راز کھل کر سامنے آ گیا کہ مولانا نے پانچ سو کروڑ میں یہ سارا سودہ کیا تھا اور ممبر پارلیامنٹ بننا چاہتے تھے

بابری مسجد اور رام مندر کا معاملہ آج سے صدیوں پرانا ہے بہت زیادہ تاریخ تو مجھے نہیں معلوم مگر اتنا معلوم ہے کہ کبھی رام مندر کو توڑ کر وہاں مسجد بنائی گئی تھی- جہاں تک مجھے اسلام کی جانکاری ہے ایسا کبھی ممکن ہی نہیں کہ  کسی ناپاک جگہ پر یا جبرا کسی کی زمین قبضہ کر مسجد بنانے کی اجازت اسلام نے دیا ہے  ظاہر سی بات ہے اس وقت بھی اسلامی فقہ کے جانکار رہے ہونگے جب مسجد کو مندر کی جگہ ناجائز طریقے سے بنایا گیا ہوگا. ہمارا ایمان کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ایسا ہوا ہوگا. بہرحال پچھلے پانچ سو سالوں سے وہاں مسجد کا وجود تھی جسے ١٩٩٢ میں ہندوؤں نے جبرا اپنی طاقت کی بنیاد پر گرا کر وہاں بھگوان رام کی مورتیاں رکھ دیں اور ہندوستان کی سیکولر کہا جانے والا قانون تماشا دیکھتا رہا آج تک ملزمین کو سزا بھی نہیں ہوئی. 


google 

ہندوستان میں مسلمان مجبور ہے کیونکہ انکی تعداد اتنی نہیں ہے کہ طاقت کے بھروسے اپنے مساجد اور اداروں کی حفاظت کر سکے مگر اتنی کم تعداد بھی نہیں ہے کہ سب کچھ ہوتا ہوا چپ چاپ دیکھتا رہے. مسلمانوں کی قیادت کرنے والے رہنماؤں نے انہیں اور اور کمزور بنانے کا عزم کر رکھا ہے . مسلمان بھی اتنی جماعتوں میں بکھرے ہیں کہ انکا اپنا کوئی وجود بھی نہیں ہے. ایک رہنما اپنے مفاد کے لئے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہی نہیں ہونے دیتا اور بیوقوف مسلمان بھی خود فیصلے نہیں لے سکتا. اگر آزادی سے قبل مسلمان ایک پارٹی کے تلے جمع نہیں ہوتے تو کیا پاکستان کا وجود ممکن تھا؟ ایک رہنما ایک مسلم پارٹی بنا کر آتا ہے تو دوسری پارٹیوں میں سیاسی روٹیاں سینک رہے اعظم خان اور سلمان خورشید جیسے رہنما اس پر طرح طرح کے الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں. مگر اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو ایک اپنی پارٹی کے تحت جمع ہونا پڑیگا ورنہ بچا ہوا وجود بھی کھونا پڑیگا 


google 

آخر مسلمان کب تک صلح حدیبیہ جیسے فیصلوں کے لئے مجبور رہیگا؟ اب تو ابابیل کی کوئی فوج بھی نہیں آنے والی جو مسلمانوں کو بچا لے. اسلئے اپنے وجود کی جنگ الله پر یقین رکھتے ہوئے خود ہی لڑنی ہوگی- مولانا سلمان ندوی نے پانچ سو کروڑ میں پوری قوم کا سودہ کر لیا کل کوئی اور نمودار ہوگا جو ہمیں کسی اور کے ہاتھوں بیچ دیگا. یہ بات سچ ہے کہ اگر ہندو جبرا مندر بنانا چاہیں تو ہم نہیں روک سکتے مگر کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ واہ ہمارے ساتھ جو کرنا چاہیں کریں ہم خوشی خوشی راضی ہوں؟ حضور صلّی الله علیہو سلم نے بھی جنگیں ہاری ہیں مگر کیا صحابہ نے اپنے آپ کو کافروں کے حوالے کر دیا؟ لاکھوں ہمارے اسلاف شہید ہو گئے مگر کیا ہمت ہار کر اپنے کو حوالے کر دیا؟ یہ سلمان ندوی جیسے ایمان فروش مولانا ہمیں کس دین کی تعلیم دے رہے ہیں؟ 

انکی تعداد زیادہ ہے ہمیں مار کر مندر بنا لیں گے مگر ہم اپنا حق نہیں چھوڑینگے. الله نے اگر قسمت میں لڑ کر مرنا ہی لکھا ہے تو کیسے بدل سکتے ہیں؟ کل پوری ہندو قوم جمع ہو جاۓ اور بولے اسلام چھوڑ دو تو کیا چھوڑ دوگے؟ اگر ایمان اتنا ہی کمزور ہے تو پھر وسیم رضوی جیسے اور رضوان جیسے ایمان فروشوں کی طرح اپنے ایمان کا سودا کر لو. وہ جس قوم سے تعلق رکھتے ہیں انکا تو وجود ہی اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے ہوا ہے مگر سلمان ندوی پر جتنی لعنت بھیجو کم ہے. معاملہ عدالت میں ہے اور معلوم ہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آنے والا اگر آ گیا تب بھی جیسے مسجد گرا دی گئی . اور قانون دیکھتا رہ گیا ویسے ہی مندر بن جاےگا اور قانون دیکھتا رہیگا مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایمان فروش ہو جائیں. کم سے کم دیکھیں تو قانون کتنا طاقتور ہے اور کتنا انصاف پسند

صرف بابری مسجد کا سوال ہی نہیں ہے اسکے بعد بھی تین سو سے زائد مسجدیں انکے نشانے پر ہیں آخر ایک سلمان ندوی کتنی بار بکینگے؟ اسلئے مسلمانوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ الله کے ہاتھ میں چھوڑ کر اپنی ایماندارانہ کوششیں جاری رکھنی ہیں. ابھی حال ہی میں راجستھان میں ایک واقعہ پیش ہوا جسمیں ایک ہندو خنزیر ایک مسلم فقیر کو بے رحمی سے مارتا ہوا دیکھا گیا تھا . سلمان ندوی جیسے ایمان فروشوں کو اس مجاہد فقیر سے سبق لینے کی ضرورت ہے جو اکیلا مار کھاتا رہا مگر اسنے گندا نعرہ نہیں بولا. مرنے کو تیار تھا مگر جے شری رام نہیں بولا. ایمان اسکو کہتے ہیں جسے پیسوں کی لالچ نہیں جان کی پرواہ نہیں مگر ایمان کی حفاظت کا احترام ہے

دوستوں ایک روایت بھی ہے کہ اگر جان مشکل میں ہو تو کیا اوپر کے من سے دوسرے مذہب کے خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی جا سکتی ہے؟ اسکے جواب میں نبی صلعم کا جواب تھا نہیں اس سے بہتر ہے مر جاؤ. مگر عبادت کسے کہتے ہیں پہلے یہ تو مسلمانوں کو سمجھ میں آنی چاہئے. ہم تو کتوں کی قبر بنا کر سجدہ کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عبادت تھوڑی ہے یہ عقیدت ہے. نعوذ بالله
___________________________________





Tuesday, 16 January 2018

ارض مقدس میں پہلی فلم ریلیز

بشکریہ: گلف نیوز 

بیت المقدس کے نام پر مر مٹنے والے مسلمان اب ارض مقدس پر عریانی فلموں سے لطف اندوز ہو رہے رہے ہیں- اسی سلسلے میں برسوں کی بندش کے بعد آج سعودی عرب کے جدہ میں پہلی فلم نمائش کے لئے پیش کی گئی. خبروں کے مطابق فلم دیکھ کر باہر نکلے لوگوں نے خوشی اور مسرت کا اظھار کیا- کیوں نہ کریں برسوں بعد اسلام کی قید و بند سے آزاد ہوئے ہیں- یہ وہی سر زمیں ہے جہاں دو جہاں کے سردار حضرت محمد صلی الله علیہ و سلم پیدا ہوئے اور یہ وہی سر زمین ہے جہاں قیامت کا دربار بھی لگےگا اور جہاں ان کمینے شیخوں کا حساب بھی ہوگا جہاں یہ کہیںگے کہ یا الله ہم نے پیسے کمانے کیلئے تیرے نبی کی تعلیمات کو طاق پر رکھ دیا اپنی عزت کو گھروں سے نکال کر سنیما ہال اور اسٹیڈیم میں بٹھا دیا

سعودی عرب کے موجودہ سلطان شاہ محمد بن سلمان نے گذشتہ کچھ دنوں میں کچھ ایسے فیصلے لئے ہیں جنکا انکے ملک پر کیا اثرات مرتب ہونگے پتا نہیں مگر اسلام کی ساکھ پر اسکے بہت مضر رساں اثرات ہونگے - سعودی عرب میں فحاشی عام ہو اس سے زیادہ نقصان اب کیا ہو سکتا ہے؟ سلمان نے ملک کی گرتی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب بکنی ریسورٹ بنانے کا اعلان کیا ہے- بکنی ریسورٹ یعنی عورتوں کو ننگے نہانے کی اجازت ہوگی- وہاں یورپ سے عورتیں نہانے آئینگی جنکے لئے شراب بھی مہیا کرائی جایئگی - یہ میں لندن کی بات نہیں کر رہا ہوں اس نبی کے دیش کی بات کر رہا ہوں جسنے عورتوں کو اپنے ناخن دکھانے کی اجازت نہیں دی ہے-تخت پانے کے لئے تم بھائیوں کو قتل کر دو منظور ہے مگر یہودیوں کی نظر میں سرخرو بننے کیلئے اسلام کو خدارا بخش دو 

اب سعودی عرب میں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت مل گئی ہے یہ فیصلہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا مگر سعودی میں معیشت کے نام پر فلموں کی نمائش ایک ایسا فیصلہ ہے جسے ایک مسلمان کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھ سکتا- آج تو یہ فلم جدہ شہر میں دکھائی گئی ہے کل ریاض، مکہ اور مدینہ میں دکھائی جائینگی - آج انیمیٹڈ فلم دکھائی گئی ہے کل ہولی ووڈ اور بولی ووڈ کی فلمیں دکھائی جائینگی- یہاں تک کہ یہ بھی طے ہو گیا ہے کہ کس دیش کی کون کون سی فلمیں پہلے مرحلے میں دکھائی جائینگی-  مارچ سے سعودی عرب میں سنیما ہال کھلنے ہیں ابھی سے پوری حکومت فلموں کے انتخاب میں مصروف ہے- جنہیں یہ فکر کرنا تھا کہ بیت المقدس کو اسرئیل سے کیسے بچانا ہے وہ کس کس ہیروئن کو تقریب میں بلانا ہے اس میں لگے ہیں 

یہ سب بہت عجیب لگ رہا ہے نہ؟ اسلئے لگ رہا ہے کہ آپ نے آخری زمانے پر حضورکی حدیثوں کا مطالعہ نہیں کیا ہے ایک بار کیجئے پھر آپ کو ساری چیزیں ایسی لگینگی جیسے یہ ساری کہانیاں آپ نے پہلے سے پڑھ رکھی ہیں- بالکل ویسا ہی ہو رہا ہے جیسا حدیث کی کتابوں میں ذکر ہے- یہ شیخ سب کتوں کی موت مرینگے یہ حدیث رسول ہے پھر یہ اگر اسی راستے پر جا رہے ہیں تو تعجب کی کوئی بات نہیں  ہے 
______________________________

آپ اپنی رائے سے ہمیں با خبر کریں نیز امت کو صحیح راستے پر لانے کے لئے اگر آپ کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھیجیں یہاں شائع ہوگی اور اگر کسی ایک نے بھی اس سے ہدایت پا لیا تو الله اسکا اجر دیگا 

سامنے آیا ہندو دہشت گردی کا نیا چہرہ

ہندو دہشت گرد شمبھو لال

گذشتہ سال نومبر میں ہندوستان کے صوبہ راجستھان میں جہاں ہندو دہشت گرد پارٹی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کی 
حکومت ہے ایک انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ سامنے آیا- ایک دلت یعنی ہندو دھرم کے سب سے نچلے طبقے کا آدمی، نے ایک مسلم مزدور افرازول کو جسکا تعلق صوبہ بنگال سے تھا کو بے رحمی سے قتل کر کے اسکے نیم زندہ جسم کو پٹرول ڈال کر جلا دیا- حیوانیت کی انتہا تب ہو گئی جب اسنے اس پورے واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کر دیا- اس ویڈیو کے آخر میں اسنے جو پیغام دیا وہ زیادہ اہم تھا- اسکے مطابق اسنے ایک بے قصور کو مار کر "لو جہاد" کو ختم کرنے کا نیا راستہ ایجاد کیا تھا.

کیا ہے لو جہاد؟


جیسا کہ ابتداء سے ہی اسلام مخالف طاقتیں اپنی ریشہ دوانیوں میں مشغول ہیں یہ جملہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے- ہندوستان میں ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کا مقصد ہے ہندوستان سے مسلمانوں کو نکالنا، انہیں طرح طرح کے جھوٹے الزامات میں ملوث کر انکی ترقی کو روکنا- اسکے لئے یہ دہشت گرد تنظیم آئے دن نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں- لو جہاد بھی اسی طرح کا ایک شوشہ تھا جسے ہندوستان کے ایک صوبہ کیرالہ سے شروع کیا گیا- دراصل کیرالہ ہندوستان کا پہلا سو فیصدی تعلیم یافتہ صوبہ ہے اور وہاں تشدد پسند لوگ نہیں رہتے – وہاں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی دیگر لوگوں کے ساتھ بہت میل جول سے رہتے آئے ہیں جو دہشت گرد تنظیموں کی منشاء کے خلاف ہے- وہاں کی ایک بڑی آبادی خلیجی ممالک میں رہتی ہے اسلئے معاشی طور پر بھی وہاں خوش حالی ہے- اسلامی معاشرت سے میل جول کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام قبول کر رہے تھے جو انہیں قطعی پسند نہیں تھا- اسلئے یہ الزام لگایا گیا کہ یہاں کے نوجوان ہندو لڑکیوں سے جان بوجھ کر شادی کرتے ہیں اور پھر انہیں جبرا مسلمان بنا دیا جاتا ہے- اسکو ان دہشت گرد  تنظیموں نے لو جہاد کا نام دیا .

پچھلے دنوں نومبر میں ہی ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اس طرح کے ایک معاملے کی سماعت کی جو ایک نو مسلم لڑکی ہادیہ کے خلاف چل رہی سازش پر مبنی تھی. ہادیہ کے مسلمان شوہر پر یہ الزام تھا کہ اسنے زبردستی ہادیہ کا مذہب تبدیل کروایا تھا- اور یہ الزام ملک کی ایک سرکاری محکمہ این آئی اے کی طرف سے لگایا گیا تھا مگر ہادیہ نے پورے ملک کے سامنے سپریم کورٹ میں یہ واضح کر دیا کہ وہ اپنی مرضی سے مسلم بنی کیونکہ اسے گاۓ کا پیشاب پینے کا کوئی شوق نہیں- خلط ملط معاشرے میں بین المذاہب تعلقات ایک فطری عمل ہے مگر اسکو جان بوجھ کر اسلام سے جوڑ دیا گیا تاکہ تیزی سے پھیلتا ہوا یہ مذھب کہیں ہندو دھرم کو ختم ہی نہ کر دے –
لو جہاد کے اس پروپگنڈے کو پورے ملک میں ایک زہر کی شکل میں گھولا گیا جسکا نا جائز فائدہ اس شمبھو لال ریگر جیسے لوگ اٹھا رہے ہیں – آخر پولیس کی تفتیش میں اس ہندو دہشت گرد کی پوری پول کھل گئی- جس لڑکی کو ویڈیو میں اسنے اپنی بہن بتایا تھا وہ اصل میں اسکی محبوبہ تھی جسکے ساتھ اسکے ناجائز تعلقات تھے- کچھ لوگ اس رشتے کو جانتے تھے اسلئے وہ انہیں مارنا چاہتا تھا-

واردات کے بعد کا رد عمل


اسکا وحشیانہ ویڈیو جاری ہونے کے بعد سبھی ہندو دہشت گرد تنظیموں کی نظر میں وہ ہیرو بن گیا – ایک بہت بڑا طبقہ اس وحشی کی مدد میں سامنے آ گیا –راتوں رات اسکی بیوی کے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے جمع ہو گئے – ہزاروں کی تعداد میں لوگ جلوس نکال کر ہائی کورٹ کے اوپر بھگوا جھنڈا لہرا دیا جو کہ ایک قانونی جرم ہے مگر ریاست کی حکومت نے کسی کتے کو بھی گرفتار نہیں کیا یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ حکومت کیسے ان دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے – اگر ملک کے یہی حالات رہے تو بہت جلد ملک نفرت کی آگ میں جل رہا ہوگا – 
مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جا رہی یہ نفرت کی ہوا کب ملک کو تباہ کر دے کہا نہیں جا سکتا- 

آپ یہ ویڈیو دیکھ کر اسکی ذہنیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں 


اس پیج پر آپکا خیر مقدم ہے آپ اپنے مشورے اور اپنی تحریر ہمیں بھیج سکتے ہیں ہم اس پر اسکو شائع کرینگے - اپنی کہانیاں، مضامین اور ناظمین ہمیں بھیجیں ہم آپکے نام سے شائع کرینگے 

Sunday, 10 December 2017

سعودی عرب نے حکومت کو آئینہ دکھانے کے جرم میں ایک خاتون کو نوکری سے برخواست کر دیا


خاتون کی برخواستگی کی وجہ حکومت کے خلاف اسکا ٹویٹ تھا

سعودی عرب کی نیوز ایجنسی عکاظ نے اپنا ایک پسندیدہ پروگرام بند کر دیا ہے- اسکی وجہ ہے کہ اس پروگرام کو پیش کرنے والی اینکر جارڈن کی رہنے والی تھی اور اسنے اپنے ایک ٹویٹ میں بیت المقدس کے تازہ معاملے میں حکومت کو آئینہ دکھا دیا دیا تھا- جب سے امریکا نے بیت المقدس کو اسرائیل کی دار الحکومت تسلیم کیا ہے تب سے تمام مسلم ممالک اس فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں- یہ الگ بات ہے کہ دنیا میں اپنی دہشت کے لئے بدنام قوم پتھر کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں وہ بھی اس ملک کے خلاف جسکے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار ہیں- اپنے آپ کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کرتے ہویے سعودی عرب نے احتجاجی آواز بلند کیا ہے لیکن پتا نہیں کیوں دنیا کو سعودی عرب کے احتجاج میں ایمانداری نہیں دکھ رہی- لوگوں کو لگ رہا ہے کہ یہ ایک ڈھکوسلہ ہے اور دکھاوا ہے-

بر طرف خاتون کو بھی کچھ ایسا ہی لگا اور محترمہ نے ٹویٹر پر اپنے دل کی آواز کو پوسٹ کر دیا- جسمیں لکھا تھا "آج احتجاج کرو کل پھر معاہدہ پر دستخط کرینگے"- در اصل سعودی عرب میں گذستہ دنوں جو ہوا اسمیں ٹرمپ کا کتنا ہاتھ تھا سب کو پتا ہے- معاویہ کے انداز میں یزید کو حکومت کی باگ دوڑ سونپ دی گئی اور حقداروں کو ملزم بنا کر جیل میں بند کر دیا گیا- شہزادہ ولید بن طلال کو کون بھولے گا جسنے ٹرمپ کو اسکی اصلی اوقات دکھائی تھی اور ٹرمپ نے کہا تھا اگر میں صدر بن گیا تو تو نہیں رہیگا- اور ویسا ہی ہوا- صرف اتنا ہی نہیں سعودی حکومت نے اسلام کے سبھی اصولوں کو بھلا کر اسرائیل سے معاہدے کیے صرف اسلئے کہ ایران کو نیچا دکھایا جا سکے- حال ہی میں یہودیوں کو مسجد نبوی میں سیلفی لینے کی اجازت دی گئی- یہ ساری باتیں اس طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ جو ٹرمپ نے کیا ہے وہ اچانک نہیں ہوا ہے-

ساری دنیا کو قرآن اور اسلام کی دعوت دینے والا سعودی عرب کب قرآن کو سمجھیگا کہ یہودی کبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے- شیعہ ایران تو پھر بھی بھائی ہے- آخر زمان کے حوالے سے جو احادیث ہیں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھئے کہ سعودی کتوں کی موت مرینگے اسکی شروعات ٹرمپ نے کر دی ہے اور اسکے حکم کو اب کوئی بدل نہیں سکتا کیونکہ پورے خطے میں امریکا نے کوئی بولنے والا نہیں چھوڑا ہے سبکی زبانیں کاٹ دی گئی ہیں اور صدام کو مروانے میں انہیں سعودیوں نے اہم رول ادا کیا تھا یہ کون بھول سکتا ہے؟
بہر حال اسکی خاتون کی نوکری جانے کا ہمیں بھی غم ہے مگر حق کی آواز اٹھانے والوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہتا ہے- در اصل یہ اتنے ڈر گئے ہیں کہ کہیں سعودی عرب کے لوگ بغاوت پر نہ اتر آییں اسلئے یہ ہر آواز کو بند 
کرینگے تاکہ بغاوت نہ ہو- 
____________________________
Please follow me.